سیاستدانوں کوکب عقل آئے گی؟


پاکستان تاریخ کے عجب موڑپر کھڑا ہے 'جہاں اسے چہارسودشمنوں کاسامنا ہے' اس سے بڑھ کر اور کیا بدقسمتی ہوگی کہ اس کے ساتھ کندھے سے کندھاملاکر کھڑاہونیوالا بھی نہیں ہے۔ پہلے پہل جب یہ بات کہی جاتی تھی کہ پاکستان دنیابھرمیں تنہا ہے تو یقین نہیں آتا تھاکہ دنیا ئے اسلام کی پہلی اورفی الوقت واحد ایٹمی قوت' 156اسلامی ممالک میں اپنی اہمیت کے اعتبار سے انفرادیت کاحامل ملک' ایشیائی ممالک کی مرکزی فہرست کا اہم نام ........لیکن زمینی حقائق کو ایک نظر سے دیکھاجائے نہ تو 156اسلامی ممالک اس کے کندھے سے کندھاملانے کو تیارہیں اورنہ ہی کوئی دوسراملک یہ کام کرنے کو تیار ہے ۔لے دے کے وہی چین ہی دکھائی دیتاہے لیکن حالیہ چندبرسوں میں چین نے بھی اپنی ترجیحات بدلناشروع کردی ہیں اب وہ پاکستان کی حمایت توکرتاہے 'اس کے ساتھ ہرقسمی تعلقات بھی رکھتاہے لیکن وہ بھارت کی بڑھتی ہوئی معاشی ضروریات کو نظرانداز نہیں کرپایا تبھی تو بھارت کے حوالے سے اس کے روئیے کی سرد مہری مسلسل پگھلتی چلی جارہی ہے۔ اب اگر یہ جائزہ لیاجائے کہ اس تشویشناک صورتحال میں پاکستان کے حکمرانوں نے اپنے روئیے میں کس حد تک تبدیلی پیدا کی ہے 'عوام کس حد تک خود کو تبدیل کرپائے ہیںکیونکہ سیانے کہتے ہیں کہ جب کوئی بندہ ہرطرف سے دشمنوں میں گھراہوا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ پہلے گھروالوںکو اعتماد میں لے' انکی مشاورت سے لائحہ عمل تیارکر پھر محلہ داروں میں سے ذہنی ہم آہنگی رکھنے والوں کو ساتھ ملائے ۔ یہ سلسلہ پھر دراز تر ہوتا چلاجائیگا اس طرح وہ باآسانی دشمن کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوسکے گا لیکن یہاں تو عجب صورتحال ہے ہرنئے سورج کے ساتھ پاکستان کے دشمنوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہی ہورہاہے ہوسکتاہے کہ اس کے کئی دیگر بنیادی عوامل ہوں لیکن سب سے اہم نقطہ یہ بھی رہا ہے کہ ہم خود انحصاری کو سرے سے اپنایاہی نہیں قیام پاکستان سے لیکر آج تک ہماری پالیسیاں اور ہماری ترجیحات غیروں کی محتاج رہی ہیں جس کاخمیازہ آج بھی قوم بھگت رہی ہے۔
ہم نے عرض کیا کہ جب بندہ دشمنوں میں گھراہوا تو وہ اپنی لئے از سر نوپالیسی 'لائحہ عمل مرتب کرتاہے لیکن اگریہ دیکھا جائے کہ پاکستان کے حکمرانوں ' سیاستدانوں نے خود کو کس حد تک سدھارا ہے'ہم ماضی کے صفحا ت نہیں کھولیںگے اور نہ ہی آج کے تیز رفتار دور میں کسی کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ ماضی میں جھانکتاپھرے' گذشتہ روز کے قومی اخبارات میں ایک خبرچٹخارے لے کر پڑھی گئی ' تبصرے ہوئے لیکن بذات خود یہ خبر افسوسناک بھی ہے اور ماضی کے ان دریچوں کی طرف دیکھنے پرمجبورکرتی ہے جو 1988 سے 1999تک محیط ہے ' خبر ہے کہ گورنر پنجاب آئی جی سمیت سیکرٹریز کی طرف احکامات بجانہ لانے پر مایوس ہیں۔ انہوں نے آئی جی' سیکرٹری آبپاشی'سی اینڈ ڈبلیو' ہوم ڈیپارٹمنٹ سمیت کئی سیکرٹریز کو طلب کیاہوا تھا لیکن کسی نے بھی آنے کی زحمت نہیں کی اسی طرح چیف سیکرٹری کی بابت پتہ چلا کہ وہ رائے ونڈ گئے ہوئے ہیں۔ جس پر گورنر یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ''مجھے نہیں پتہ تھا کہ آج بھی رائے ونڈ میں کوئی وزیراعظم بستاہے'' ۔ یہ تصویرکاایک رخ ہے کراچی کی جانب چلئے 'عروس البلاد کہلوانے والا یہ شہر آج خون خون ہے' ہرسو نظردوڑانے کے بعد یہی دکھائی دیتاہے کہ ''کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے'' ہم ہیں کہ مجرم تلاش کرنے کی بجائے الٹا مجرموں کاتحفظ کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ خبر یہ بھی ہے کہ پی پی کے اہم عہدیداراورصوبائی وزیر کے گرداگرد ایسے لوگ موجود ہیں جن کے سروں کی قیمت لاکھوں روپے لگائی جاچکی ہے۔ لیکن اس کے باوجود حکومتی ایوانوں سے ہی چیخ وپکار ہورہی ہے کہ دہشتگردوں کو جلد ہی کنٹرول کرلیںگے ۔ یہ عمل کس طرح وقوع پذیرہوگا کہ دہشتگرد خود حکومتی ایوانوں اور وزرا کی کوٹھیوں میں پل رہے ہیں۔
ہم حیران تو اس فعل پر ہیں کہ بیرونی دنیا میں دشمنوںکے درمیان گھرے اس ملک کے ایک صوبے میں اس حد تک نفرت کو فروغ دے دیاگیا کہ اب وہاں دیگرصوبوں خاص طورپر پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کا قدم رکھنا بھی محال ہے۔ ہماری مراد صوبہ بلوچستان سے ہے ' ہم یہ کہہ کر اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ بر اہوجاتے ہیں کہ ''بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں بھارت کا ہاتھ ہے '' لیکن یہ کیوں نہیں دیکھاجاتا ہے کہ ہمارے روئیے' کردار بھی اس نفرت کو ہواد ے رہے ہیں۔ مسلسل کئی عشروں سے آہستہ آہستہ پروان چڑھتی نفرت کا کسی نے اندازہ لگانے کی کوشش نہیں کی نتیجتاً آج بلوچستان اس نہج پر موجود ہے (خاکم بدہن) کسی بھی وقت دوسرا سانحہ مشرقی پاکستان رونماہوسکتا ہے ۔
ہم نے بیرونی خطرات 'دشمنوں کی بات کی ہے تو عرض کردیں کہ نہ تو ہمارے سیاستدانوں نے اس صورتحال میں کوئی پلاننگ کی ہے اور نہ ہی کوئی ایسا لائحہ عمل اختیارکرنے کی کوشش کی کہ جس کی بدولت عوام کو اعتماد میں لیکر آگے بڑھاجاسکے الٹاعوام کی مشکلات میں اضافہ ہی کیاگیا ہے۔ ان کو میسر سہولیات چھینی جارہی ہیں۔ گویا پاکستان کی اندرونی حالت کو دیکھ کر بھی یہی کہاجاسکتاہے کہ اس کی کوئی بھی کل سیدھی نہیں معاشی' انتظامی اور سیاسی حوالوں سے بھی جائزہ لیاجائے تو کسی بھی شعبے میں کوئی ایسی چنگاری دکھائی نہیںدیتی جو بڑھ کر شعلہ بن سکے۔ آج قوم کو ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جوچاروں صوبوں بشمول آزاد کشمیرکو یکجاکرسکے 'ہم جیسے تقسیم شدہ لوگوں کو انفرادیت کے چنگل سے نکال کر اجتماعیت کا شعور دے سکے۔ یہ کام پیپلزپارٹی بخوبی انجام دے سکتی تھی لیکن موجودہ دور اقتد ار میں مرکزیت کی حامل یہ جماعت بھی انفرادیت کا شکار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔


| | Read More »

آئی ایس آئی مذاق بن گئی؟ محمدثقلین رضا

 ابھی امریکی ‘بھارتی اداروں‘ میڈیا کے ذریعے آئی ایس آئی پر اچھالی جانیوالی الزامات کی گرد چھٹی نہیں تھی کہ اس ملک کو بے شرمی کا ’’فخر‘‘ عطا کرنیوالی وینا ملک نے رہی سہی کسرپوری کردی‘ بھارتی رئیلٹی شو ’بگ باس ‘‘ جس قد ر ممکن ہوسکا وینا نے بے حیائی کامظاہرہ کیا‘ بگ باس کی وہ چوتھی قسط ختم ہوگئی اب جبکہ پانچویں قسط جاری ہے ایک واضح فرق ‘بھارتی اداکارائوں ودیگر خواتین اور وینا ملک کے روئیے میں دکھائی دیتاہے کہ وہ ظاہراً ’’بولڈ‘ کپڑے پہنے ہوئے ہیں لیکن ان کا رویہ‘ گفتگو ‘چال ڈھال ‘ اٹھک بیٹھک میں کسی قسم کی ’’بولڈننس‘‘ نہیں جھلکتی۔ تاہم وینا ملک جب اس شو میں موجودتھیں تو مرد فنکار کی گود میں سونا ایک ہی بسترمیں ’’اچھل کود‘‘کرنا گویا معمول بن چکا تھا۔ انہوں نے اس شو میں کھلے عام بوسہ بازی بھی کی جس پر بڑی لے دے ہوئی‘ اگر علمائے کرام کی طرف سے کوئی بیان جاری بھی ہوا تو وینا ملک نے جس بدتمیز ی سے ان کی تضحیک کی وہ کسے بھولا ہے۔ بہرحال اب اُسی وینا ملک نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ’’ایف ایم ایچ ‘ ‘ نامی بھارتی میگزین میں بالکل عریاں تصاویر کھینچوائی ہیں جبکہ اس میگزین کے سرورق پر ان کی وہ تصویر بھی چھپی ہے جس میں ان کے بائیں بازو پر ’’آئی ایس آئی ‘‘ لکھا ہے۔ اس بارے میں بڑی لے دی ہوئی‘ رحمن ملک نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ’واقعہ کی انکوائری کرائیںگے ‘دیکھاجائیگا کہ یہ تصاویر اصلی ہیں یانقلی‘ اگراصلی ہوئیں تو کاروائی کی جائے گی ‘‘ دوسری جانب اس میگزین کے  ایڈیٹرکبیر شرمانے کہا ہے وینا ملک کی تصویر اصلی ہے جس کے ثبوت بھی موجود ہے، ہمارے حساب سے یہ سیدھاسادہ فیشن شوٹ تھا۔انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی لکھنے کا آئیڈیا سن کر وینا بہت پرجوش تھیں ۔ کبیرشرما نے دعوی کیا کہ ہم نے آئی ایس آئی اتناواضح نہیں لکھاتھا ویناکے کہنے پر نمایاں کیاگیا،آئی ایس آئی لکھاجانا مذاق کے طور پر تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں کوئی غلط کام ہو ، الزام آئی ایس آئی پر لگادیا جاتا ہے۔کبیر شرما نے کہا کہ اس سارے شوٹ میں وینا نے بھی مشورے دیے، شوٹنگ کے دوران وینا نے کسی جھجک کا مظاہرہ نہیں کیا ۔وینا بہت اچھی اسٹار ہیں ،بھارت میں انھیں پسند کیا جاتا ہے‘‘ دوسری جانب ویناملک کاکہنا ہے کہ ’’ بولڈ شوٹ میں نے کرایا ہے لیکن بالکل عریاں تصاویر میں نے بنوائیں‘ میگزین کے سرورق پر جو تصویر چھپی ہے وہ میں پورے کپڑوں میں کھنچوائی تھی ‘ دوسری جانب وینا یہ بھی کہتی ہے کہ ’’آئی ایس آئی‘‘ لکھنے کا آئیڈیا میگزین ایڈیٹر کبیرکاتھا جو مذاق مذاق میں طے ہوا ‘ اور یہ آئیڈیاطے ہوا تھا کہ ’’اوپری جسم کو آئی ایس آئی کے ٹیٹو سے ڈھانپاجائیگا‘‘ ان کے دومختلف بیانات عجب نمونہ پیش کرتے ہیں‘ ایک طرف تو وہ کہتی ہیں کہ سرورق پر چھی تصویر انہوںنے مکمل کپڑوں کے ساتھ کھنچوائی دوسری جانب وہ بھی کہتی ہیں کہ آئیڈیا طے پایاتھا کہ اوپری جسم کو ’’آئی ایس آئی‘‘ کے ٹیٹو سے ڈھانپا جائیگا‘‘ گویا ان کا یہ بیان ظاہر کرتاہے کہ انہوں نے بالکل عریاں تصویر اپنی مرضی سے کھنچوائی اورآئی ایس آئی لکھوانے کے آئیڈیا میں بھی برابر کی شریک ہیں جیسا کہ میگزین ایڈیٹرکبیرکہتے ہیں کہ ان کاآئیڈیاتھا کہ ’’آئی ایس آئی‘‘ اتنا واضح نہیں لکھا جائیگاتاہم وینا کے مجبورکرنے پر آئی ایس آئی واضح لکھاگیا‘‘
اس سارے واقعہ نے ایک بات تو واضح کردی کہ ’ایف ایچ ایم‘‘ میگزین میں چھپی عریاں تصویر وینا ملک کی اصلی تصویر ہے اوراس نے اپنی مرضی اور رضامندی سے ہی بازو پر ’’آئی ایس آئی‘‘ کاٹیٹو چھپوایا ہے۔اب یہ معاملہ طے کرنے کے بعد اگلی منزل یہ ہے کہ کیا وینا ملک نہیں جانتی کہ بھارت میں آئی ایس آئی کو کن لفظوں میں یاد کیاجاتاہے یاانہیں اتنی خبر بھی نہ تھی کہ امریکہ اور اس کے اتحاد ی ان دنوں آئی ایس آئی کے پیچھے پڑے ہیں۔ کہنے کو یہ صرف ایک ’’مذاق ‘ ‘ تھا لیکن وینا یہ بتانا پسندکریں کہ یہ مذاق ایک ایسے ادارے کے ساتھ کیوں کیاگیا جو پاکستان کی سالمیت کے حوالے سے اہمیت کاحامل ہے۔ اگر یہ بات محض مذاق کی ہی ہے توگویا یہ اس بات کی گواہی کیلئے کافی ہے کہ بھارتی عوام‘ اس کے ادارے آئی ایس آئی کو اس حد گراوٹ کاشکار سمجھتے ہیں کہ اسے ننگے جسموں پر کھوداجائے۔
وینا ملک کے عزائم تواس دن ہی واضح ہوگئے جب وہ بگ باس جیسے رئیلیٹی شو میں داخل ہوئیں اورپھر جس انداز میں اس نے کھلم کھلا فحاشی کامظاہرہ کیا ۔اسی وقت سب سمجھ گئے تھے کہ ’’ وینا ملک بھارتی فلم انڈسٹری میں قدم جمانے کے چکر میں ہے‘‘ لیکن وہ یہ بھول گئی کہ اس جیسے ’’ننگے پن‘‘ کامظاہرہ کرنے والی سینکڑوں اداکارائیں بھارت میں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔رہی اداکاری تو اس معاملے میں بھی بہت آگے ہے ۔ یہاں اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے بات آگے بڑھائیںگے کہ بحیثیت بھارتی شہری فلم انڈسٹری سے منسلک تمام لوگوں کارویہ یکساں ہی ہوتاہے ۔ اب یہ سوال کہ آخراتنا ٹیلنٹ‘ حسن اور ادا رکھنے کے باوجود وہ آخرکیوں کر پاکستانی اداکاروں کوکاسٹ کرتے ہیں یا پاکستانی اداکاروں کی خواہش پر انہیں کاسٹ کیاجاتا ہے؟تو اس کاایک ہی سیدھا سادھا جواب سامنے آتاہے کہ وہ جس قدر ممکن ہوتاہے پاکستانی اداکارائوں کو سکرین پر ننگاپیش کرکے نہ صرف اپنے ان جذبات کی تسکین کرتے ہیں جو گذشتہ تریسٹھ چونسٹھ سالوں سے پاکستان کے حوالے سے موجود ہیں دوسری بات کہ وہ اس انداز پاکستان کی تذلیل کرکے گویا دنیا بھر میں ایک منفرد امیج کی تشہیر کرتے ہیں کہ روایتی تصورغلط ثابت ہوجاتاہے
ہم ناقص العقل اور کم علم ہیں لیکن ویناملک کی عریاں تصویر‘ میگزین ایڈیٹر ‘وینا کے خود اپنے بیانات سے یہی نتیجہ اخذکرچکے ہیں کہ نہ صرف یہ تصاویر اصلی ہیں بلکہ اس کی اپنی مرضی سے آئی ایس آئی کا ٹیٹو کھدوایا گیا۔ تاہم اگر حکومتی حلقے خود نہ سمجھنا چاہیں تو الگ ‘اوریہ کہ کوئی شخصیت یا ادارہ وینا ملک کی مسلسل جاری کارستانیوں پر ’’وکیل صفائی ‘‘ کاکردار اداکرنا چاہتی ہیں تو یہ سمجھاجائے گا کہ ’’آئی ایس آئی ‘‘ کا مذاق اڑانے والوں میں وہ بھی شامل ہیں۔

| | Read More »

امریکہ کی ہٹ دھرمی برقرار محمدثقلین رضا

 نجانے کیوں ہمیں امریکہ پر اس شرارتی نوجوان کا سا گمان ہونے لگا ہے جو والدین ‘عزیز واقارب کے سمجھانے کے باوجود باز نہیںآتا‘ ہرسو اس کے ذہن پر’’شرارت ہی شرارت‘‘ چھائی رہتی ہے اور حادثات وواقعات بھی اسے تبدیل نہیں کرپاتے ‘ بس وہ اپنی شرارتوں میں گم ہے اورنقصانات درنقصانات کرتا چلاجارہاہے۔ ایسا ہی کچھ ان دنو ں امریکی روئیے سے صاف ظاہر ہے‘ اول یہ کہ نیٹو حملہ کے حوالے سے امریکہ قیادت نے واضح الفاظ میں معذرت سے انکارکردیا ہے‘ دوئم یہ کہ نیٹوحملے جیسی کارروائیاں امریکی پلان کاحصہ تھیں اوراسے پاکستان کے شدید ردعمل کابھی احسا س تھا تبھی توانہوں نے شمسی ائربیس کے متبادل ائر بیس کی تیاریاں کئی ماہ سے جاری رکھی ہوئی تھیں۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ امریکی جاسوس طیارے ڈرون حملوں کیلئے یہاں سے ہی پرواز کیاکرتے تھے اب جبکہ پاکستان کی طرف سے 11دسمبر کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے تو امریکہ کایہ ائربیس چھوڑنا بذات خود اس بات کی دلالت کرتاہے کہ وہ پہلے ہی پاکستانی عوام اورحکومت کے ردعمل سے آگاہ تھا ۔ اب یہ سوال پیداہوتاہے کہ نیٹو حملے جیسی کاروائی سے پہلے کیا اس کے ذہن میں یہ بات بھی تھی کہ ڈرون حملوں کی طرح پاکستانی عوام‘ سیاستدانوں اور حکومت کی طرف سے ملاجلا ردعمل ہوگا ؟نیز یہ کہ اسے اتنے شدید عوامی اورسیاسی ردعمل کی توقع تھی۔ یہاں یہ سوال بھی ذہنوں میں جنم لیتاہے کہ کیا پاکستانی قیادت ڈرون حملوں کی طرح نیٹوکاروائی سے قبل ازوقت آگاہ تھی اگر جواب نفی میں ہے توپھر سوچنا پڑیگا کہ امریکہ جب کسی کاروائی میں پاکستانی حکومت کو اعتماد میں لئے بغیر اس کی سرزمین پرچڑھ دوڑتاہے تو پھر کیا اسے ’’دوستی ‘‘ کانام دیاجاسکتاہے۔ یہاں یہ نقطہ بھی نہایت توجہ کاطالب ہے کہ ماضی قریب میں افغان صدر سمیت امریکی سینٹرز ‘ اہم عہدیداران یہی راگ الاپتے رہے کہ پاکستان کی سرزمین افغانستان میں حملوں کیلئے استعمال کی جارہی ہے‘ اگر اس وقت حکومت پاکستان اس راگ یا راگنی کی حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کرتے یا افغان صدر ‘امریکی اعلیٰ عہدیداران سے ثبوت مانگے جاتے تو یقینا آج یہ کاروائی نہ ہوپاتی ۔ ممبئی حملوں کے بعد بھارت کے مسلسل شو روغوغا کی بدولت جب پوری دنیا کا میڈیا پاکستان کو اس دہشتگردانہ کاروائیوں میں ملوث کرنے لگا تو پاکستان نے اس کاروائی کی بابت ثبوت مانگے ‘ بھارتی رویہ بھی لیت ولعل پر مبنی تھا ‘ مہینوں انہیں ثبوتوں کے اکٹھاکرنے میں صرف کرنے کے بعد اورپاکستانی رویہ میں مسلسل شدت کی بدولت دنیا پر بھی واضح ہوگیا کہ اول تو پاکستان کااس میں کوئی کردار نہیں دوئم اگرکوئی پاکستانی اس کاروائی میں ملوث بھی تھا تو وہ اس کی انفرادی کاروائی تھی اس میں حکومت پاکستان‘ فوجی ادارے یا کسی گروہ کی دلچسپی ثابت نہیں ہوسکی۔
پاکستانی اخبارات تو الگ اب امریکی میڈیا بھی نیٹوحملہ کے حوالے سے تبصرے جاری ہیں ‘ ایک سابق امریکی جرنیل بیری مکے فرمی نے اپنی حکومت اور فوجی قیادت کو مشور ہ دیا ہے کہ وہ پاکستان سے معافی مانگ لیںبصور ت دیگر امریکہ افغانستان میں پھنس کررہ جائیگا کیونکہ افغان میں طلب ورسد کاسامان پاکستان کے راستوں سے ہی گزر کر افغانستان پہنچتاہے‘اگر پاکستان نے یہ راستے بند کردئیے تو ڈیڑھ لاکھ فوجیوں کاگزربسر مشکل ترہوجائیگا۔ ایک اورجرنیل کا کہنا ہے کہ فی الوقت پاکستانی حکومت نے امریکی ڈرون طیاروں کیلئے فضائی پابندیاں عائد تو نہیں کیں تاہم اگر وہ ایسا کرتی ہے تو پھر امریکہ کیلئے ایک اورمشکل کھڑی ہوسکتی ہے۔تاہم امریکہ کے اعلیٰ عہدیداران کے بیانا ت واضح کرتے ہیں کہ نیٹوحملہ نہ صرف دانستہ کاروائی تھی بلکہ مستقبل قریب میں وہ مزید ایسی کاروائیوں کے عزائم رکھتا ہے‘ دوسری بات یہ کہ وہ ڈرون حملوں کاسلسلہ بھی جاری رکھے گا چاہے اس کیلئے اسے جنگ ہی کیوں نہ لڑناپڑے۔ فی الوقت پاکستانی قیادت کا زور نیٹوحملے پر ہی ہے اور انہوں نے ڈرون حملوں کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی بیان جاری نہیں کیا وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کہتے ہیں کہ گیارہ دسمبرکے بعد شمسی ائر بیس سے ڈرون اڑنے نہیں دینگے تاہم وہ وضاحت نہیں کرسکے کہ امریکہ کوپاکستانی‘افغان حدود سے ڈرون حملوں کی اجازت دی جائے گی یانہیں؟
امریکی محکمہ دفاع کا کہناہے کہ نیٹوحملے کی تحقیقات جاری ہیں اور اس میں پاکستان اورافغان نمائندوں کو بھی دعوت دی گئی ہے تاہم ان ممالک کو خفیہ حصوں تک رسائی نہیں دی جائیگی۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق’’ پاکستان میں نیٹوحملہ کے بعد جوابی فوجی کاروائی کامطالبہ زور پکڑرہاہے‘ پاکستانی رہنما  ہمیشہ کی طر ح خطرناک کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں۔اخبار کے مطابق یہ واضح نہیں کہ نیٹو کے پاکستانی سرحدی پوسٹوں پر حملے کی کیا وجہ تھی لیکن اس سے بھی اختلاف نہیں کہ جانوں کا ضیا ع المیہ ہے اس حملے میں پاکستان کے چوبیس فوجی جوان شہید ہوئئے ہمیں ان کی موت پر افسوس ہوا جیسا کہ ہمیں نیٹو‘ امریکی‘ افغان ‘پاکستانی اوردیگر شہریوں کی ہلاکت پرہوتاہے۔اخبار کے مطابق افغانستان میں جاری آپریشن کی کامیابی کیلئے پاکستان کاتعاون بیحد ضروری ہے تاہم امریکی صدر اوباما کارویہ یہ ثابت نہیں کرتاہے کہ وہ پاکستان دوستی کے حوالے سے سنجیدہ ہیں‘‘
نیویارک ٹائمز کے طویل ترین تبصرے کے آخر میں پاکستانی قیادت کو بھی تبصروں سے گریز کامشورہ دیا گیاہے تاکہ مسلسل کشیدہ ہوتے امریکی تعلقات میں کھنچائو کم کیاجاسکے۔ نیز یہ مشورہ بھی دیاگیا ہے کہ پاکستانی رہنماا س حملے کے حوالے سے جاری تحقیقات میں امریکی حکام سے تعاون کریں تاکہ آئندہ اس قسم کی کاروائی نہ ہو۔ تاہم اخبار یہ واضح نہیں کرسکا کہ امریکی قیادت کی طر ف سے آئندہ ایسا حملہ نہ کرنے کی بھی کوئی یقین دہانی کرائی گئی ہے یا نہیں۔
جیسا کہ ہم نے شروع میں عرض کیاتھا کہ امریکہ کا رویہ شرارتی نوجوان کا سا ہے اور وہ نفع نقصان کااندازہ کئے بغیر ہٹ دھرم روئیے پر قائم ہے‘ اسے احساس ہے کہ وہ دنیا کی سپرپاور ہے تبھی وہ ’’سوری‘‘ جیسے لفظ کی ادائیگی اپنے لئے توہین تصورکررہاہے ۔ سیانے کہتے ہیں کہ جو شاخ جھکنا نہیں جانتی وہ ٹوٹ جایاکرتی ہے۔ یہ الگ بات کہ اب امریکہ کی کمر کے مہرے ہل چلے ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ یہ جھکی کمر کب سجدہ ریز ہوتی ہے۔

| | Read More »

امریکی غلطیاں پاکستان کوکہاں لے جائیںگی محمدثقلین رضا

 امریکی سرکردگی میں دنیا بھر میں ؔؔ’’امن ‘‘ کیلئے کردار اداکرنے والی ’’نیٹوفورسز ‘‘ کے پاکستانی چیک پوسٹ پر حملہ کے نتیجے میں پاکستان کے 24جوان شہید ہوگئے جن میں بھکر سے تعلق رکھنے والا فوجی جوان مہربان بھی شامل تھا ۔ اس واقعہ پر نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونی دنیا میں بھی احتجاج جاری ہے‘ خاص طورپر چین نے دوٹوک موقف اپناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ نیٹو نے پاکستان کی سالمیت پرحملہ کیا پاکستان کی خودمختیاری کا احترام کیاجائے۔دوسری جانب پاکستان نے نیٹو کی طرف سے معذرت کو قبول کرنے سے انکارکرتے ہوئے اسے امریکی قیادت کی معذرت سے مشروط کردیا ہے۔ اس معاملے میں پاکستان کی مذہبی‘ سیاسی سماجی جماعتیں اوروکلا بھی احتجاج کررہے ہیں‘ اس عوامی دبائو کا ہی نتیجہ ہے کہ حکومت نے اپنے روئیے میں لچک کامظاہرہ نہیں کیا گزشتہ شب عرب امارات کے سفیر نے صدرپاکستان سے ملاقات میں شمسی ائر بیس خالی نہ کرانے کی درخواست کی جسے صدر نے مسترد کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کی سالمیت کیلئے ہرممکن اقدام اٹھایاجائیگا اور اس معاملے میں کسی مصلحت کوآڑے نہیں دینگے۔ واضح رہے کہ پاکستان نے شمسی ائر بیس عرب امارا ت کو دیاہوا ہے جبکہ اسے امریکی افواج ہی استعمال کرتی ہیں۔ گویا عرب امارا ت نے کرایہ پرملنے والا گھر آگے ایک اورکرایہ دار کو دے رکھاہے۔ ممکن ہے کہ پاکستان کے بیشتر عوام اس ’’ڈیلنگ ‘‘ کی خبر نہ رکھتے ہوں تاہم اب نیٹوحملہ نے کم ازکم یہ راز افشا کردیا کہ پاکستان حکمران کس انداز میں ملکی سالمیت دائوپرلگاتے رہے ہیں اوریہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ بہرحال وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بھی کہنے پرمجبورہوگئے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات پہلے جیسے نہیں رہے ‘نیٹو حملے کے بعد اب کوئی بڑا قد م اٹھاناپڑیگا۔بہرحال ان کی امریکی ٹی وی سے گفتگو میں پاکستان میں چھڑے کئی طرح کے ایشوز زیر بحث آئے جو قابل اعتراض بھی تھے تاہم فی الوقت اس بارے بات نہیں کرینگے۔جیسا کہ ہم نے بیرونی دنیا کے احتجاج کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چین کاحوالہ دیا تواب آمدہ اطلاعات کے مطابق روس نے بھی اس حملے پرشدید احتجاج کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسے پاکستانی سالمیت پرحملہ تصورکیاجائیگا۔
صاحبو! نیٹو فورسز کے حملہ پر اوائل میںکہاگیا کہ نیٹو افواج نے پاکستانی سیکورٹی فورسزاہلکاران کے جواب میں حملہ کیا جسے افواج پاکستان کی طر ف سے یکسر مستردکرتے ہوئے کہاکہ ایسا ہوناممکن نہیں ہے یہ محض بہکاوا دینے کی بات ہے۔افواج پاکستان کے ترجمان کے مطابق اگر نیٹو فورسز پر حملے کاکوئی ثبوت ہے تودکھایاجائے۔ افواج پاکستان کی سرکردہ قیادت بھی بخوبی خبر رکھتی ہوگی کہ نیٹویا امریکہ نے دنیا بھرمیں جہاں کہیں بھی کوئی کاروائی کی اس کاکوئی مثبت جواز پیش نہیں کرسکے۔ خاص طورپر دنیاکو آگ کی بھٹی بنانے والے ‘دنیا میں امن کے چمپئن امریکہ نے 9/11 کاجوڈرامہ گھڑا تھا ا سے اس کے اپنے ماہرین حرب نے مسخرے پن سے تعبیر کیاتھا ۔ مگر اس کے باوجود بھی امریکہ اپنی کاروائیوں میں مصروف رہا  بدقسمتی تو یہ بھی ہے کہ اس کاروائی میں اقوام متحدہ کی منشا شامل ہے کہ اقوام متحدہ اب امریکی دبائو کی بدولت اپنا مقام کھوتی جارہی ہے خاص طورپر ملت اسلامیہ اسے غیرجانبدار تصورکرنے کو تیارنہیں۔ البتہ مسلمان حکمرانوں کی بابت تحفظات ضرور پائے جاتے ہیں کہ ان کاہرفعل امریکی منشا کے مطابق ہوتاہے تاہم مصر‘ تیونس ‘عراق ‘ افغانستان میں امریکی جارحیت کے اثرات کا ہی نتیجہ ہے کہ اب وہاں کے عوام امریکی کاسہ لیسی میں مصروف حاکموں کوبرداشت کرنے کوتیارنہیں ۔ رہی بات پاکستان کی تو پاکستان کے اسی فیصد عوام امریکی دوستی کو دل سے تسلیم نہیں کرسکے۔
صاحبو! نیٹوفورسز کی کاروائی جیسے کئی واقعات پہلے بھی ہوچکے ہیں تاہم ان کے حوالے سے اول تو امریکہ نے کوئی نہ کوئی جواز ضرور گھڑا ‘ دوئم اگرجواز تسلیم نہ کیاگیاتو اسے امریکی فوجیوں کی غلطی قراردے دیاگیا ‘ستم بالائے ستم یہ کہ اس کریہہ فعل کے باوجود کبھی امریکی قیادت نے پاکستان سے معذرت تک کرناگوارہ نہ کی ۔ محسوس یہی ہوتاہے کہ امریکہ کی نظرمیں انسان ہونے کاشرف صرف ان لوگوں کو ہی حاصل ہے جو امریکہ میں بستے ہیں بیرونی دنیا کے لوگ یا انسان شاید اس کی نظر میں تنکے سے زیادہ حیثیت کے حامل قرا ر نہیں پائے۔
نیٹوحملہ کے حوالے سے جہاں ملک میں بحث ‘احتجاج جاری ہے وہاں سابق وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیان نے بھی جلتی پرتیل کاکام کیا ہے ۔سابق وفاقی وزیر کاکہنا تھا کہ پاکستانی قیادت ایٹمی پروگرام کے حوالے سے امریکہ سے سمجھوتہ کرچکی ہے۔جس پردفتر خارجہ کی ترجمان تہمینہ جنجوعہ باقاعدہ پریس کانفرنس میں تردید کرنے پر مجبورہوگئیں کہ شاہ محمود قریشی کابیان سراسر غلط ہے۔ اول یہ کہ شاہ محمود قریشی کے بیان کو محض الزام قرا ر دیکر مسترد نہیں کیاجاسکتاکہ موصوف ’’ گھر کے بھیدی ‘‘ ہیں دوئم یہ کہ اگر تو شاہ محمود قریشی کی بات محض ’’الزام ‘‘ ہی تھی توآج اس اہم موڑپر عسکری اورسیاسی قیادت قوم کودو ٹوک الفاظ میں بتاد ے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے پوری طرح محفوظ ہیں اور اس پرکسی قسم کاکوئی بیرونی دبائو برداشت نہیں کیاجائیگا ۔کہنے کو یہ بات پہلے بھی سیاسی قیادت کی طرف سے کہی گئی لیکن دوٹوک رویہ کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔
بہرحال آج پاکستانی عوام پوچھنے پر مجبورہیں کہ آخر کب تک پاکستان امریکہ کی ’’غلطیوں ‘‘ پر محض چند الفاظ کا ’’معذرت نامہ ‘‘ قبول کرتے ہوئے قربانیاں دیتا رہے گا ۔دوسری بات کہ آخر امریکہ ایسی غلطیاں کرکے پاکستان کو کس قسم کے ’’انجام‘‘ سے دوچار کرناچاہتاہے۔
 عوام کا صبر توجواب دے گیا نجانے کب پاکستانی قیادت کی برداشت حدوں سے باہرنکل کراحتجاج کی صورت اختیارکرتی ہے۔ اس کافیصلہ آئندہ چند دنوں میں ہوجائیگا

| | Read More »

وزیراعلیٰ کے ادبی مقابلہ جات ایک نظر میں

قوم ایک طرف کئی جھمیلوں میں پڑی ہے‘کہیں میمو سکینڈل کاآوازہ ہے تو کہیں سے نیٹو حملے پر صدائے احتجاج بلند ہورہی ہے ‘بلکہ موخرالذکر واقعہ پر دنیابھر میں احتجاج جاری ہے ‘ہوسکتاہے کہ میمو سکینڈل بھی نیٹوحملہ کی وجہ سے پس پشت چلاجاتا لیکن میاں نوازشریف کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے یہ معاملہ اب سپریم کورٹ پہنچاہوا ہے ۔ بہرحال جھمیلوں کاذکر کررہے تھے کہ قوم طرح طرح کے جھمیلوں میں گھری ہے ایسے میں سوچ کے تمام تر دھارے اوردائرے اسی طرف ہی لگے رہتے ہیں ۔ایسے میں دیگر عوامل کی طرف نظر تک نہیں جاپاتی۔ چند دن قبل ہمارے پاس ایک نوجوان آیا ‘ چونکہ وہ یونیفارم میں ملبوس تھا تو اندازہ ہوا کہ وہ کسی نہ کسی سکول کالج کاطالبعلم ہوگا۔ موصوف کے چہرے کی پریشانی ظاہرکررہی تھی کہ وہ کسی نہ کسی مشکل کاشکارہے۔ ابھی ہم اس سے معاملہ معلوم ہی کرنا چاہتے تھے کہ اس نے ہمارے سامنے ایک کاغذ رکھا جس پر اس کانام ولدیت کے ساتھ ساتھ یہ لکھا ہوا تھا کہ آپ فلاں تاریخ کو دس بجے سرگودھا پہنچیں۔ چونکہ وہ طالبعلم سرگودھا سے دواڑھائی سو کلومیٹر دور یعنی بھکر کا باسی ہے ۔ ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ اسے جس تاریخ کو یہ لیٹریاحکم نامہ ملااسی تاریخ کو ادبی مقابلے طے تھے۔ وہ جس وقت ہمارے پاس آیا اس وقت صبح کے دس بج رہے تھے۔ گویا طالبعلم کوعین وقت پر مطلع کیاگیا کہ وہ محض ایک گھنٹہ میں ہی دواڑھائی سو کلومیٹر کاسفر طے کرکے پہنچے۔ ایک اورستم ظریفی یہ بھی ہوئی کہ اسی لیٹر کے ذریعے آگاہ کیاگیا کہ آپ کو تین عنوانات میں سے کسی ایک پرتقریر کرنا ہوگی۔ گویا اس کے لئے سفرکرکے سرگودھاپہنچنا اور پھر انہی دوگھنٹوں میں تین عنوانات کی تیاری کرنا بھی ہے ۔ بات یہاں تک محدود نہیں رہی بلکہ ہم نے بچشم خود پوزیشنوں کے معاملے میں لین دین ہوتے دیکھا ہے۔ ججز کے حوالے سے بھی بے شمار شکایات سامنے ہیں کہ انہوں نے محض من پسندسکولوں(خاص طورپر پرائیویٹ سکولوں کے حوالے سے شکایات زیادہ ہیں) کو نواز نے کیلئے حق دار بچے پرکوئی نہ کوئی اعتراض لگادیاہے ۔ایک خاتون ٹیچر بتارہی تھیں کہ انکی بیٹی دسویں جماعت کی طالبہ ہے ۔ تقریری مقابلہ کے دوران بچی کا لب ولہجہ بھی بہترین تھا‘ ادائیگی ‘لہجے کا اتار چڑھائو‘تلفظ سبھی کچھ درست تھا تاہم جب نتائج کا اعلان کرنے کی باری آئی تو دو ججز نے طالبہ کے قدوقامت پراعتراض اٹھادیا کہ یہ اپنے قد کے حساب سے میٹرک کی طالبہ لگتی ہی نہیں ہے۔ بات یہاں تک ختم نہیں ہوئی ۔ احتجاج کرنے پر کہاگیا کہ آپ باقاعدہ ویری فیکشن کراکے لائیں۔ ججز کو باقاعدہ ہیڈمسٹریس کی مہر دستخط شدہ یعنی تصدیق شدہ لیٹر دکھایاگیا لیکن وہ نہ مانیں۔ اصل عقدہ تو اس وقت کھلا جب ایک پرائیویٹ سکول کی بچی کو اول قرار دیاگیا ۔ جبکہ اول قرا ر پانیوالی بچی کے لب ولہجہ ‘ادائیگی پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔ یہ رویہ پھر ڈویژنل مقابلوں میں بھی ہوا ۔
صاحبو! ظاہراً یہ باتیں پاکستانی معاشرہ میں بیحد معمولی حیثیت رکھتی ہیںتاہم اس کے اثرات کا اندازہ یوں لگایا جاسکتاہے کہ حق سے محروم طالبعلم کا ذہن ایسی باتوں سے بری طرح متاثرہوتا ہے اورپھر یہ تاثرتادیر قائم رہے تو پھر اس کی تعلیمی استعداد میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔ ہم نے ایسے کئی واقعات خود اپنی آنکھوں سے دیکھے بلکہ ماہرین تعلیم ‘ صوبائی سطح پرپالیسیاں مرتب کرنے والے بھی آگاہ ہوتے ہیں لیکن ستم ظریقی ملاحظہ ہو کہ کبھی کسی طرف سے ایکشن نہیں لیاگیا۔
سیانے کہتے ہیں کہ جاہل اورکم علم سے کیا شکوہ کرنا کہ اسے اول تو خبر نہیں ہوتی اگر ہوتو وہ اتنی استعداد نہیں رکھتا کہ کچھ کہہ سن سکے۔ لیکن علم وقوت رکھنے والا اگر اسی روئیے کا مظاہرہ کرے جو کم علم‘جاہل کاہوتاہے توپھر دونوں میں تفریق کرتے ہوئے جاہل ‘کم علم کو ہی ترجیح دی جائیگی۔ نجانے کیوں ہمیں اس قسم کے مثبت مقابلہ جات پر ایسا ہی گمان ہونے لگتا ہے کہ جس بنیاد پر معاشرہ کی تخلیق طے پاتی ہے وہ بھی جھوٹ فریب ‘دھوکہ دہی پر ہی پنپ رہی ہو تو پھر معاشرے سے کیا گلہ کہ‘ بنیاد میں خالص مصالے کی بجائے ملاوٹ شدہ میٹریل استعمال ہوا ۔
اب یہ کہہ کر دلاسا دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اگرآپ کے بچے ‘بچی کی پوزیشن نہیں آئی تو کیا قیامت آگئی‘ کہنے والا تو کہہ کرچلاجاتاہے لیکن اسے خبر نہیں ہوتی کہ اس قسم کی ناانصافی کے اثرات کسی بھی طالبعلم کے تعلیمی کیرئر پر بھی بری طرح مرتب ہوتے ہیں۔ وہ طالبعلم اگر حوصلہ نہ رکھتاہو تو مایوسی کاشکارہوجاتاہے اس صورت میں بھی اس کی مجموعی تعلیمی حالت متاثرہوتی ہے تاہم اگر طالبعلم میں حوصلہ ہو مگر متعدد بار کی زیادتیوں کے بعد بالآخر وہ بھی اسی راہ کاراہی بن جاتاہے ۔ اس صورت میں وہ پوزیشن ‘انعام تو لے لیتاہے لیکن وہ ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھ رہاہوتا ہے جو سراسر جھوٹ فریب اوردھوکہ دہی پرمبنی ہے۔ ایسے میں اس کی یہ معمولی جرم اور چوری چکاری ‘ دھوکہ دہی‘فریب ڈاکہ سبھی ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔ سیانے کہتے ہیں جرم چاہے چھوٹا ہو یا برا ‘لیکن مجرم ایک طرح کے ہوتے ہیں‘ بس دل پر لگنے والے نقطے کافرق ہے جو معمولی نقطہ سے ہوتاہوا جب وسعت اختیارکرتا ہے تو پھر دل سیاہی مائل ہونے پر برائی بھی اچھائی کی مانند لگنے لگتی ہے۔
ہم پنجاب کے مسٹر میرٹ ‘وزیراعلیٰ پنجاب سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ جہاں دیگر کئی طرح کے جھمیلوں میں گھرے ہیں وہاں انہیں اپنے صوبہ میں جاری ان مقابلہ جات کی طرف بھی نظردوڑانا ہوگی یوں بھی ان کے فرائض دوگنا ہوگئے کہ ان ادبی ‘کھیلوں کے مقابلہ جات کو ’’وزیراعلیٰ ادبی مقابلہ جات ‘‘ کانام دیاگیا ہے۔ خدا کرے کہ وہ کچھ وقت تعلیم ‘تعلم کے حوالے سے بھی نکال سکیں۔

| | Read More »

PNS HAMLA



| | Read More »

Chal Jhoti



| | Read More »

Bugt Drama ki kia Zarort hy



| | Read More »

Her SKhas ny Lota hey lachar Smjh k



| | Read More »

Raqs Dhun Dhna Dhun



| | Read More »

Saraiki Soba



| | Read More »

Naya Amriki Drama



| | Read More »

Ishaq Na Puchy Zaatan


| | Read More »

Mulki Asmat Bechny Waly Hukmran


| | Read More »

Bacha Jamhora Aur Rangeen Mizaj Wazeer


| | Read More »

jamhoriat ki tareef aur siastdano ky rawey(1)


| | Read More »

HAZOOR E SHAHAN JHUK NHEN SAKY


| | Read More »

Qalam Qabela